لکھنؤ،31؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)امت شاہ کے دورے کے پہلے دن اپنی پارٹیوں سے استعفیٰ دینے والے تینوں ایم ایل سی یشونت سنگھ، بکل نواب اور جے ویر سنگھ پیر کو بی جے پی میں شامل ہو گئے۔بی جے پی نے بہت ہی آنا فانا میں ان تمام لیڈروں کی شمولیت کروائی۔اس دوران میڈیا کو دور رکھا گیا۔آپ کو بتا دیں کہ بکل نواب اور یشونت سنگھ ایس پی کے جبکہ جے ویر سنگھ بی ایس پی کے ایم ایل سی تھے۔
تینوں ہی لیڈروں نے امت شاہ کی موجودگی میں پارٹی دفتر میں بی جے پی کی رکنیت حاصل کی۔آپ کو بتا دیں کہ بکل نواب ملائم کے اور جے ویر سنگھ مایاوتی کے قریبی لیڈر مانے جاتے تھے۔اتر پردیش میں مایاوتی کی حکومت میں وزیر رہے ٹھاکر جے ویر سنگھ بی ایس پی کے ایم ایل سی تھے۔ان لیڈروں کے استعفی کو بی جے پی کے ایک خفیہ پلان سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔دراصل یوگی کابینہ کے کچھ وزراء اور خود یوگی آدتیہ ناتھ کو کچھ دنوں میں کے اندر ایوان کی رکنیت حاصل کرنی ہے۔بی جے پی ان میں سے کچھ لوگوں کو قانون ساز کونسل بھیجنے کی تیاری میں ہے۔ان لیڈروں کے بی جے پی میں شامل ہونے سے خالی ہوئی سیٹوں پراب بی جے پی کو اپنے من پسند امیدواروں کو فتح دلانے کافی آسان ہوگا۔بحث اس بات کی ہے کہ ابھی تین سے چار لوگ اور قانون ساز کونسل سے استعفی دے سکتے ہیں جس میں سماج وادی پارٹی کے دو ،بی ایس پی کا ایک اور کانگریس کا ایک رکن ہو سکتا ہے۔پہلے استعفی اور پھرشمولیت ان واقعات میں 48گھنٹے کا بھی وقت نہیں لگا لیکن اتر پردیش میں جہاں فی الحال کسی راجیہ سبھا انتخابات کی کوئی جلدی نہیں ہے لیڈروں کو پارٹی سے استعفی کراکر بی جے پی میں شامل کرنے کی جلدی سمجھ سے باہر ہے۔اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ان استعفوں کے بعد کیا یوگی اور کیشو پرساد موریہ انتخابات کا منہ دیکھیں گے یا پھر ایم ایل سی بن کر ایوان میں داخل ہوں گے، جلدی سے سوال اٹھنا تو لازمی ہے۔